Islamic Story | Story Of Hazrat Abdur Rahman (R) | Islamic Waqia P2

Islamic Story , The incident of Hazrat Abdur Rehman (R) This is the Second article of this incident, I hope you all will enjoy reading this incident and are determined to change your life by learning something from this Islamic Story. waqia , islamic waqia in hindi , islamic story in hindi , islamic story in urdu ,islamic story hindi. part1

slamic Story. waqia,islamic waqia in hindi,islamic story in hindi, islamic story in urdu,islamic story hindi

Islamic Story of Hazrat Abdur Rahman (R) in  English :

Despite Hazrat Abdul Rahman’s (may Allah be pleased with him) extensive business activities, he was never seen to be interested in amassing wealth. Even after becoming one of the prominent traders in Arabia, he never attempted to establish himself or indulge in extravagance, unlike Bilal and Mada and those caught in the trap of worldly gains who often forget both God and their fellow human beings.

But Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him) had this awareness that whatever he earned through trade, he would spend it generously on the needy and his family. This is why it is said that all the people of Madinah were partners in Ibn Awf’s wealth.

He never engaged in business to earn and accumulate wealth. In religious matters, he spent generously, considering his financial gains as a means to spend in the path of God. He was known for his contentment and was considered indifferent to worldly riches. His simplicity and unpretentious lifestyle remained unchanged from poverty to prosperity. When he was in need, he gave heart-touching charity in alms, and when wealth came, he increased his donations.

On the occasion of the Battle of Tabuk, when the need for war equipment arose, Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him) contributed 200 ounces of gold in the cause of Allah. In the context of the norms prevailing in Madinah at that time, this was a substantial contribution. When Prophet Muhammad (peace be upon him) saw this substantial amount, he asked Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him), ‘What have you left for your family?’ To which he replied:

‘I have left Allah and His Messenger for them.’ This was his faith-inspired dedication, for which he was given the glad tidings of paradise during his lifetime. It is because of this dedication that Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him) is counted among the ten companions given the good news of paradise.

Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him) had no interest in worldly fame or wealth. Before his passing, Hazrat Umar (may Allah be pleased with him) nominated him as a candidate for the position of Caliph. Among the ten companions who received the glad tidings of paradise, he was the first to renounce the Caliphate, saying, ‘By Allah’s oath! If a thorn pricks my throat, it is dearer to me than the Caliphate.’

Ultimately, Hazrat Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) appointed him as the Caliph. Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him) also engaged in agriculture alongside his business activities. After the conquest of Khaybar, Allah’s Messenger (peace be upon him) granted him a piece of land known as “Razi” in his name. He purchased additional land with his personal wealth and distributed it among the needy and the families of the Prophet’s wives.

He spent his wealth generously in the path of Allah, contributing 40,000 dinars for the construction of Masjid An-Nabawi in Medina. His wealth was distributed among the warriors of Badr, with each receiving 400 dinars, and in inheritance, every wife of the Prophet (may Allah be pleased with them) received 80,000 dinars.

Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him) was involved in both trade and agriculture, but he was not solely occupied with them. He actively participated in the battles, and in times of conflict, he preferred the path of peace and well-being. As a result of his practical service, peace was achieved during the Treaty of Hudaybiyyah, a significant triumph without any bloodshed, and the enemies surrendered.

During the Battle of Uhud, he fought valiantly alongside the Prophet (peace be upon him) and did not fall short in contributing to the cause of Islam, whether in the fields of warfare or commerce. His services contributed significantly to the spread of Islam.

At the age of 75, in the year 652 CE, Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him) passed away. In his final moments, tears flowed from his eyes. When asked, he said that he feared his wealth might lead him to disfavor his friends. In this state, Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) conveyed the good news that he was to be buried in the chamber alongside Prophet Muhammad (peace be upon him) and Hazrat Abu Bakr (may Allah be pleased with him).

However, Hazrat Abdul Rahman (may Allah be pleased with him) declined, stating that he felt modesty regarding being laid to rest in the proximity of Prophet Muhammad (peace be upon him) and Hazrat Abu Bakr (may Allah be pleased with him). His funeral prayer was led by Hazrat Uthman Ghani (may Allah be pleased with him), attended by many of the Companions (may Allah be pleased with them).”

Islamic Story of Hazrat Abdur Rahman (R) in  Urdu :

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کی و سیع پیمانے پر تجارت ہونے کے باوجود دولت کمانے میں ان کا انہماک کبھی دیکھا نہیں گیا۔ عرب کے بڑے تاجروں میں ان کا شمار ہونے کے بعد بھی انہوں نے کبھی اپنے اپ کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش نہ کی بلال و مادہ اور دولتوس سود کے زام میں ادمی خدا فراموش ہی نہیں اپنوں سے بھی بیزار ہو جاتا ہے.

مگر حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ عالم تھا کہ تزارت سے جو کچھ حاصل ہوتا اسے غربا ہوا مساکین اور اہل و عیال پر بے دریا خرچ کر دیتے تھے اسی وجہ سے ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ سارے کے سارے اہل مدینہ ابن عوف کے مال میں شریک ہیں.

دولت کمانے اور اسے سینت سینت کر رکھنے کے لیے انہوں نے کبھی تجارت نہیں کی دین کے کاموں میں وہ بے انتہا خرچ کرتے وہ اپنی تصارت کے نفع کا اندازہ خدا کی راہ میں خرچ ہونے والی دولت سے کرتے تھے وہ قناعت پسندی اور اس دغنہ کے لیے سارے مدینے میں مشہور تھے۔

یہ وہ خوبیاں تھیں۔ جن کی وجہ سے وہ اصحاب رضی اللہ تعالی عنہ میں نمایاں نظر اتے تھے۔ اس پر مستزادان کی سادہ اور بے ریا زندگی تھی جس میں افلاس سے عمارت تک کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ائی۔ وہ جب تنگدست تھے اس وقت میں سخاوت میں اپنی کشادہ قلبی کا ثبوت دیتے رہے اور جب عمارت ہاتھ ائی تو عطا کی کشادگی میں اضافہ ہوتا گیا۔

غزوہ تبوک کے موقع پر جب جنگی سازو سامان کی ضرورت پیش ائی تو حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالی عنہ نے 200 اوقیہ سونا اللہ کی راہ میں پیش کر دیا مدینے کے اس وقت کے حالات کے لحاظ سے یہ امداد بہت زیادہ تھی۔ اس کثیر رقم کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ.

اپنے خاندان کے لیے کیا چھوڑا تو انہوں نے جواب دیا “جس رزق خیر اور اجر کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا ہے ، اتنا مال میں نے اپنے اہل و خاندان کے لیے چھوڑا ہے۔ یہی وہ ایمانی جذبہ تھا جس کی بدولت حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کو زندگی ہی میں جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ اسی بشارت کی بنا پر عشرہ مبثرہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کو دنیاوی جاہ و مال سے ذرا دلچسپی نہیں تھی۔ انتقال سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جن چھ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ اسلام کے انتخاب کے لیے نامزد کیا تھا، ان میں حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے سب سے پہلے وہ بذات خود خلافت کے منصب سے یہ کہتے ہوئے دستبردار ہو گئے کہ.

” اللہ کی قسم! اگر میرے حلق پر چھری رکھ دی گئی تو یہ چیز مُجھے خلافت سے زیادہ پسند ہے”۔ بالاخر ان ہی کی ایمان پر حضرت عبد عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بنائے گئے۔

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ تجارت کے ساتھ زراعت بھی کرتے تھے۔ فتح خیبر کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کی ایک کشادہ راضی(زمین )ان کے نام کر دی تھی۔ انہوں نے اپنی ذاتی دولت سے بھی کئی کھیتیاں خرید لی تھیں۔ وہ کھیتیوں کی فصل بھی تجارتی مال کی طرف غربا تقسیم کر دیتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے زمین کا ایک ٹکڑا 40 ہزار دینار میں خریدا.

اور اسے بنی زہرا کے غرباء اور مساکین نیز امہات المومنین میں تقسیم کر دیا۔ اخری عمر میں حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی کل جائیداد فی سبیل اللہ تقسیم کرنے کی وصیت کی۔ تو غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے سو صحابہ میں سے ہر ایک کے حصے میں 400 دینار اور وراثت میں ان کی ہر بیوی کے حصے میں 80 ہزار دینار ائے۔

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کی تجارت اور زراعت ہی میں مصروف نہیں رہتے۔ بلکہ غزوات میں بھی شریک ہوتے تھے۔ مگر جنگ و جدل سے زیادہ وہ امن و خیر خواہی کے راستے کو پسند کرتے تھے۔

چنانچہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت عملی کی وجہ سے دو متہ الجندل کی جنگ کے موقع پر پورا علاقہ پر امن طور پر فتح کیا گیا۔ اور دشمنوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ اس موقع پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ ہے نصیحت کی تھی کی جنگ میں بچوں، عورت اور بوڑھوں کو قتل مت کرنا۔

اور جنگ سے قبل انہیں احسن طریقے سے سمجھانا۔ جنگ احد میں دشمنوں سے لڑتے ہوئے اس کے استقلال میں جرا سے بھی کمی نہیں ہوئی کامرانے کے ساتھ واپس لوٹے تو ان کا جسم زخموں سے چھلنی تھا۔ ان زخموں کی وجہ سے ان کے ایک پیر میں لنگ اگیا تھا۔ اس جنگ میں ان کے چند دانٹ بھی ٹوٹ گئے تھے۔ اس طرح میدان کارزار ہو یا تجارت کا بازار عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ دونوں میدانوں میں مستعدر رہے۔ انہوں نے اپنی بے لوث خدمات سے دین کو خوب نفع پہنچایا۔

75 برس کی عمر میں 652 ءمیں حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا جاننکی کی حالت میں ان کی انکھوں سے انسو رواں تھے۔ احباب کے پوچھنے پر کہنے لگے مجھے اس بات کا خوف ہے کہ میری دولت کی وجہ سے میں اپنے دوستوں سے دو نہ کر دیا جاؤں۔ اس حالت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب سے اپ کو یہ خوشخبری پہنچائی گئی.

کہ ان کی قبر حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بنائی جائے مگر حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے حیا محسوس ہوتی ہے کہ اس بلند جوار میں میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلو میں لیٹوں۔ اُن کے جنازے کی نماز حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھائی جس میں وقت کے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ موجود تھے۔

Islamic Story of Hazrat Abdur Rahman (R) in  Hindi :

हज़रत अब्द अल-रहमान का व्यापार बड़े पैमाने पर होने के बावजूद उन्हें धन कमाने में कभी असंतुष्ट नहीं देखा गया। अरब के बड़े व्यापारियों में गिने जाने के बाद भी उन्होंने कभी खुद को महान साबित करने की कोशिश नहीं की।

लेकिन हज़रत अब्द-अल-रहमान, रज़ियल्लाहु अन्हु को यह मालूम था कि उन्हें राजा से जो कुछ भी मिलता था, वह गरीब गरीबों और अपने परिवार पर खर्च करते थे, इसीलिए उनके बारे में कहा जाता है कि सभी मदीना इब्न के लोग औफ की संपत्ति में हिस्सा लेते हैं।

धन कमाने और उसे शांति से रखने के लिए उन्होंने कभी व्यापार नहीं किया। वे धर्म के कार्यों में बेतहाशा खर्च करते थे। वे पूरे मदीना में प्रसिद्ध थे।

ये थे गुण जिसके कारण वह साथियों में प्रमुख थे। उस पर मस्तज़ादान की सादा और लापरवाह जिंदगी थी, जिसमें गरीबी से लेकर मकान बनने तक की स्थिति में कोई बदलाव नहीं आया। जब उन्हें जरूरत पड़ी तो वे उदारता में अपना उदार हृदय दिखाते रहे और जब इमारत सौंप दी गई तो अट्टा की उदारता बढ़ गई।

ताबुक की लड़ाई के अवसर पर, जब युद्ध उपकरण की आवश्यकता थी, हज़रत अब्द अल-रहमान (आरए) ने अल्लाह के रास्ते में 200 औंस सोना पेश किया। उस समय मदीना की स्थितियों को देखते हुए, यह सहायता बहुत थी अधिकता। इतनी बड़ी रकम देखकर, पवित्र पैगंबर (PBUH) ने हज़रत अब्द अल-रहमान (RA) से पूछा।

उसने अपने परिवार के लिए क्या छोड़ा, उसने उत्तर दिया, “अल्लाह और उसके दूत (सल्लल्लाहु अलैहि व सल्लम) ने जिस अच्छी जीविका और इनाम का वादा किया है, मैंने अपने परिवार और दोस्तों के लिए इतनी सारी संपत्ति छोड़ दी है। वह थी विश्वास की भावना।” जिसकी बदौलत हज़रत अब्द अल-रहमान (आरए) को उनके जीवनकाल में स्वर्ग की ख़बर दी गई। इस ख़बर के कारण, उन्हें मुबत्रा के दस वर्षों में गिना जाता है।

हज़रत अब्द अल-रहमान (आरए) को सांसारिक धन में कोई दिलचस्पी नहीं थी। अपनी मृत्यु से पहले, हज़रत उमर (आरए) ने इस्लाम के खलीफा को चुनने के लिए छह साथियों (आरए) को नामित किया था, जिसमें हज़रत अब्द अल-रहमान (आरए) भी शामिल थे। ऐसा कहना छोड़ दिया।

“अल्लाह की कसम! अगर मेरी गर्दन पर छुरी रख दी जाए तो ये चीज़ मुझे ख़िलाफ़त से भी ज़्यादा पसंद है।” अंततः उनके विश्वास पर हज़रत अब्द उस्मान बिन अफ्फान (आरए) को खलीफा बनाया गया।

हजरत अब्द अल-रहमान व्यापार के साथ-साथ खेती भी करते थे। खैबर की विजय के बाद, अल्लाह के दूत (सल्लल्लाहु अलैहि व सल्लम) ने वहां जमीन का एक बड़ा टुकड़ा उनके नाम पर कर दिया था। उन्होंने अपनी निजी संपत्ति से कई खेत भी खरीदे थे। वे फसलों को व्यावसायिक वस्तुओं के रूप में गरीबों में वितरित भी करते थे। एक अवसर पर, उन्होंने 40 हजार दीनार में जमीन का एक टुकड़ा खरीदा।

और उसे बनी ज़हरा के गरीबों और गरीबों और ईमानवालों की माताओं में बांट दिया। अपने जीवन के अंत में, हज़रत अब्द अल-रहमान (आरए) ने अपनी पूरी संपत्ति सबील अल्लाह को दे दी। तो, बद्र की लड़ाई में भाग लेने वाले 100 साथियों में से प्रत्येक को 400 दीनार दिए गए, और उनकी प्रत्येक पत्नी को 80 हजार दीनार विरासत के रूप में दिए गए।

हज़रत अब्द अल-रहमान (भगवान उन्हें आशीर्वाद दें और उन्हें शांति प्रदान करें) न केवल व्यापार और कृषि में लगे हुए थे। बल्कि वे युद्धों में भाग लेते थे। लेकिन उन्होंने युद्ध और संघर्ष की अपेक्षा शांति और सद्भावना का मार्ग अधिक पसंद किया।

इसलिए, हज़रत अब्दुल रहमान की व्यावहारिक सेवा के कारण, दू मुत्ता अल-जंदल की लड़ाई के अवसर पर पूरे क्षेत्र को शांतिपूर्वक जीत लिया गया। और दुश्मनों ने अपनी हार मान ली. इस अवसर पर, हज़रत मुहम्मद (PBUH) ने हज़रत अब्दुल रहमान (RA) को युद्ध में बच्चों, महिलाओं और बुजुर्गों को न मारने की सलाह दी।

और युद्ध से पहले उन्हें अच्छी तरह समझाना। उहुद की लड़ाई में दुश्मनों से लड़ते हुए उनकी स्वतंत्रता में रत्ती भर भी कमी नहीं आई और जब वह साथियों के साथ वापस लौटे तो उनका शरीर घावों से छलनी था। इन चोटों के कारण उनका एक पैर निष्क्रिय हो गया। इस युद्ध में उनके कुछ दाँत भी टूट गये। इस तरह, चाहे वह व्यवसाय का क्षेत्र हो या व्यापार का बाज़ार, अब्द अल-रहमान (आरए) दोनों क्षेत्रों में मेहनती थे। अपनी निःस्वार्थ सेवाओं से उन्होंने धर्म को बहुत लाभ पहुँचाया।

75 वर्ष की आयु में, हज़रत अब्द अल-रहमान की मृत्यु 652 ई. में हुई। उनकी आँखें आँसुओं से भरी थीं। मेरे दोस्तों से पूछने पर उन्होंने कहा, ”मुझे डर है कि कहीं मैं अपनी दौलत की वजह से अपने दोस्तों से अलग न हो जाऊं.” ऐसे में यह खुशखबरी आपके लिए हज़रत आयशा (आरए) लेकर आईं।

कि उनकी कब्र हज़रत अबू बक्र सिद्दीकी (आरए) के बगल में आयशा (आरए) के कमरे में बनाई जानी चाहिए, लेकिन हज़रत अब्द अल-रहमान (आरए) ने यह कहते हुए इनकार कर दिया कि मुझे शर्म आ रही है कि इस उच्च ज्वार में, मैं हज़रत मुहम्मद का अनुसरण कर रहा हूं। (PBUH) मुझे अल्लाह और हज़रत अबू बक्र सिद्दीक के पक्ष में लेटने दो। उनकी अंतिम संस्कार प्रार्थना का नेतृत्व हज़रत उस्मान गनी (आरए) ने किया था जिसमें उस समय के जलील-उल-क़द्र सहाबा (आरए) मौजूद थे।


Leave a Comment